دھیرکوٹ:افغان تربیت کے لیے خفیہ جہادی تنظیم کا نیٹ ورک

0
61

دھیرکوٹ کی انتظامیہ اور مقامی ایجنسیز کی ناک کے نیچے سیری بانڈی سے تعلق رکھنے والے جہادی تنظیم کے کمانڈر اور اسکے ساتھیوں کے ذریعے ایک نیٹ ورک تیار کیا جارہا جس میں نوعمر اور نوجوان کالجز اور یونیورسٹیز کے طلباء کو جہاد اور نظامِ شریعت کے نفاذ کے لیے ورغلا کر والدین کی اجازت کے بغیر خفیہ طریقے سے تربیت کے لیےافغانستان بھیجاجارہاہے جسکی وجہ سے والدین سخت پریشان ہیں.

کلس پجے اور چڑالہ سے گزشتہ دن سترہ کے قریب نوجوان پُر اسرار طور پر لاپتہ ہو گئے۔ لاپتہ نوجوانوں میں سات کا تعلق کلس پجے جبکہ باقیوں کا تعلق ناڑاکوٹ اور چڑالہ اور دھیرکوٹ سے ہے۔ یہ تمام نوجوان کالجز اور یونیورسٹیز کے سٹوڈنٙس ہیں۔
زرائع کیمطابق گزشتہ دو سال سے کسی جہادی تنظیم کے لوگ ان سے رابطے میں رہے اور انکی منظم طریقے سے زہن سازی کی گئی۔ اطلاعات کے مطابق ان سب کا یونین کونسل چڑالہ سیری بانڈی سے تعلق رکھنے والے ایک جہادی تنظیم کے کمانڈر کیساتھ رابطے تھے جو انکو پاکستان میں نظام شریعت کیلیے افغانستان تربیت کیلیے قائل کر رہا تھا۔
گزشتہ جمعرات یکم جون کو رات کو سب نوجوان بالکل خاموشی کیساتھ گھروں سے نکلے اور راولپنڈی اکھٹے ہوئے۔ اپنے موبائل نمبرز بدل کر اور کسی خفیہ ایپ کے زریعے رابطے میں رہے اور تین تین اور چار چار کے گروپس بنا کر بلوچستان کیطرف نکلے۔ کچلاک سے افغانستان کیطرف آج صبح نکلے۔
اس کے بعد کی اطلاعات نہیں ہیں کے وہ بارڈر کراس کر چُکے ہیں یا پاکستانی حدود میں ہی ہیں۔
قبائلی علاقوں اور کوئٹہ میں موجود انتظامیہ حرکت میں ہیں لیکن تاحال کوئی سراغ نہیں لگایا جا سکا۔

تمام والدین سے درخواست ہے اپنے بچوں کی سرگرمیوں پر خصوصی توجہ دیں وہ کس سے مل رہے کن لوگوں کیساتھ انکے تعلقات ہیں کس ماحول میں ہیں۔
کون انکو ورغلا رہا ہے سہانے خواب دکھا کر اپنے خاص مقصد کیلیے آپکے بچوں کو استعمال کر رہا ہے۔

لاپتہ نوجوانوں میں علی انعام، سمیع تصدق، طلحہ لیاقت، ولید ساجد،شایان معروف، اظہار الحق، عمر جمیل

حکومت آزاد کشمیر، حکومت پاکستان اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اگر ایسے نیٹ ورک کو نہیں پکڑ رہے ہیں تو صاف مطلب یہ ہوا کہ کہی نہ کہی کوئی پاکستانی ادارہ خود پشت پناہی کر رہا ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں