باجوڑ دھماکا: مزید تین زخمی دم توڑ گئے، جاں بحق افراد کی تعداد 46 ہوگئی

0
58

ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر نے دھماکے کے مزید تین زخمیوں کے دم توڑنے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ دھماکے میں 90 سے زائد زخمی مختلف اسپتالوں میں زیرعلاج ہیں، 38 میتیں شناخت کے بعد ورثا اپنے ساتھ لے گئے جب کہ 8 لاشیں ناقابل شناخت ہونے کے باعث اسپتال میں رکھی ہیں۔

ترجمان لیڈی ریڈنگ اسپتال کے مطابق لیڈی ریڈنگ اسپتال میں باجوڑ دھماکے کے 16 زخمی زیرعلاج ہیں جن میں سے بیشتر کی حالت تسلی بخش ہے اور ایک زخمی آئی سی یو میں ہے۔

دوسری جانب ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر نذیر خان کا کہنا ہےکہ باجوڑ دھماکے کے بعد تین مشکوک افراد کو حراست میں لیاگیا ہے۔

آئی جی خیبرپختونخوا اختر حیات خان نے کہا کہ ورکرزکنونشن میں خودکش دھماکے والی جگہ سے شواہد اکٹھے کرلیے ہیں جو ڈی این اے کے لیے بھجوا دیے ہیں، جائے وقوعہ کی جیو فینسنگ بھی کی گئی ہے۔

آئی جی خیبرپختونخوا نے کہا کہ بم ڈسپوزل یونٹ نے دھماکے کی جگہ سے نمونے حاصل کرلیے، دھماکے والی جگہ اور اطراف سے سی سی ٹی وی فوٹیج بھی حاصل کرلی ہیں جس کی چھان بین کا عمل جاری ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ انسداد دہشتگردی ٹیم واقعہ کی جگہ پر تحقیقات میں مصروف ہے، واقعے میں ملوث تنظیم اور خودکش حملہ آور کی نشاندہی کررہے ہیں، امید ہے جلد تحقیقات میں پیش رفت ہوسکیں گی۔

پاکستان میں امریکی سفارت خانے نے اتوار کی رات ایک بیان میں دھماکے کے نتیجے میں جانی نقصان پر لواحقین سے اظہار افسوس کیا۔

بیان میں کہا گیا: ’ہم تشدد کے اس گھناؤنے فعل کی سخت مذمت کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں بے گناہ جانوں کا نقصان ہوا اور بہت سے دوسرے لوگوں کو نقصان پہنچا۔‘

سفارت خانے نے اپنے بیان میں کہا کہ ’پرامن اور جمہوری معاشرے میں دہشت گردی کی ایسی کارروائیوں کی کوئی جگہ نہیں۔ ہم اس مشکل وقت میں پاکستان کے عوام کے ساتھ کھڑے ہیں۔‘

اس واقعے پر جہاں حکومتی عہدے داروں کے مذمتی بیان آئے، وہیں افغانستان میں طالبان حکومت اور پاکستان میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے بھی مذمت کی۔

ٹی ٹی پی کے ترجمان محمد خراسانی نے میڈیا کو جاری ایک بیان میں کہا کہ تنظیم اس دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے جان سے جانے والوں کے لیے دعا گو ہے۔

بیان کے مطابق: ’تحریک طالبان پاکستان شہدا اور زخمیوں کے اہل خانہ، متعلقین اور جمعیت علمائے اسلام کی قیادت اور کارکنان کے ساتھ غم کی اس گھڑی میں برابر کی شریک ہے۔

افغانستان حکومت کے مرکزی ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بھی ٹوئٹر پر اپنے بیان میں کہا: ’امارت اسلامیہ خیبرپختونخوا باجوڑ ایجنسی میں دھماکے کی مذمت کرتی ہے۔

انہوں نے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے مزید کہا: ’ایسے جرائم کسی طور بھی جائز نہیں۔

ابھی تک کسی گروپ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں