جموں کشمیر: 6 نکاتی مطالبات، سرکاری ملازمین 23 اگست سے ہڑتال کرینگے

0
25

 پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر کے سرکاری محکمہ جات کی جملہ تنظیموں نے مشترکہ گرینڈ اجلاس کرتے ہوئے 6 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کر تے ہوئے 23 اگست سے قلم چھوڑ ہڑتال کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

جمعرات کے روز دارالحکومت مظفر آباد میں منعقدہ اجلاس میں جملہ سرکاری ملازمین تنظیموں کے 48 رہنماؤں نے شرکت کی۔ اجلاس میں تمام ملازم تنظیموں کے رہنماؤں نے حلف بھی لیا کہ وہ اس تحریک کے دوران ثابت قدم رہیں گے اور کسی بھی ملازم رہنما یا ملازم کے خلاف تادیبی کارروائی کی صورت میں تمام محکمہ جات کے ملازمین مل کر اس کے خلاف جدوجہد کریں گے۔

اجلاس کے بعد مشترکہ طور پر حکومت کے سامنے 6 مطالبات پیش کئے گئے ہیں۔ جن میں ایکٹ 2016ء اور آرڈیننس 2023ء کا فوری خاتمہ، تنخواہوں اور پنشن میں پاکستان کے وفاق کی طرز پر یکم جولائی سے اضافہ، سرکاری ملازمین کو بلاامتیاز یوٹیلٹی الاؤنس کی ادائیگی، ہاؤس بلڈنگ ایڈوانس کی رقم کی فوری ادائیگی، معطل کئے گئے عہدیداران اور اراکین کی فوری سروس میں بحالی اور ڈسپیرٹی الاؤنس کی رننگ بیسک تنخواہ پر ادائیگی کے مطالبات شامل ہیں۔

صدر، وزیر اعظم، چیف سیکرٹری، سیکرٹری سروسز، سیکرٹری مالیات اور کمشنر ز کیلئے جاری کئے گئے نوٹس میں یہ کہا گیا ہے کہ مطالبات کی عدم منظوری کی صورت 23 اگست سے احتجاج اور مکمل ہڑتال شروع کی جائیگی، جو مطالبات کی منظوری تک جاری رہے گی۔

یاد رہے کہ پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر میں گزشتہ 3 ماہ سے زائد عرصہ سے احتجاجی تحریک چل رہی ہے۔ اس دوران شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتالیں بھی کی گئی ہیں اور ریاست گیر بڑے احتجاجی مظاہرے بھی منعقد کئے گئے ہیں۔ تین ماہ سے احتجاجی دھرنوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ رواں ماہ اگست کے دوران بجلی کے بلات جمع نہ کروانے کا اعلان کیا گیا ہے۔

بجلی بلات جمع نہ کروانے کے حوالے سے مہم کے دوران احتجاجی اور آگاہی مظاہروں کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔

دوسری جانب احتجاجی تحریک کی قیادت کی جانب سے 5 ستمبر سے ہڑتال کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔ تاہم ابھی تک ہڑتال کی نوعیت واضح نہیں کی گئی ہے۔ آنے والے دنوں میں ہڑتال کی نوعیت کا اعلان بھی کر دیا جائے گا۔

احتجاجی تحریک کے مطالبات میں گندم پر سبسڈی کی فراہمی، جموں کشمیر سے پیدا ہونے والی بجلی سے مقامی ضرورت کی بجلی خطے میں گرڈ اسٹیشن قائم کر کے اس میں محفوظ کرنے اور شہریوں کو گلگت بلتستان کے نرخوں پر بجلی فراہم کرنے،حکمران اشرافیہ کی مراعات کے خاتمے سمیت دیگر مطالبات شامل ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں