مقبوضہ بلوچستان: مختلف اضلاع میں فوجی آپریشنز جاری،دو افراد فورسز ہاتھوں لاپتہ

0
52

مقبوضہ بلوچستان کے مختلف اضلاع آواران کے علاقوں جھا ؤ اور مشکے ،کیچ کے کوہلو،ڈیرہ بگٹی میں فوجی جارحیت جاری،موبائل نیٹ ورک بند اور ضلع پنجگور سے فورسز نے دو افراد کو لاپتہ کر دیا ہے۔

بلوچستان کے ضلع آواران کے علاقے جھا ؤکے پہاڑی سلسلے سوگر میں گزشتہ چھ دنوں سے پاکستانی فوج کی لشکر کشی جاری ہے۔علاقائی ذرائع کے مطابق فورسزنے مواصلاتی نظام کے تمام ذرائع بند کردیئے جس سے فوجی جارحیت کے شکار سورگر کے حوالے سے کسی قسم کی کوئی معلومات سامنے نہیں آرہی۔

جبکہ علاقے لوگ اپنے گھروں میں محصور ہیں اور فورسز کی بڑی تعداد نے مذکورہ علاقے کی داخلی و خارجی راستوں کی ناکہ بندی کی ہے۔ذرائع بتاتے ہیں کہ فورسزکے اہلکارگھروں میں گھس کر لوگوں کو ہراساں کرکے تشدد کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

دوسری طرف مشکے کے مغربی پہاڑی سلسلوں میں فورسز کی بڑی تعداد دیکھی گئی ہے۔ذرائع بتاتے ہیں کہ فورسز کے ساتھ علاقائی ریاستی ڈیتھ اسکواڈ کے کارندے بھی دیکھے گئے ہیں جو ان کے کمک کیلئے ساتھ ہیں۔علاقائی ذرائع کے مطابق مشکے کے مغربی پہاڑی سلسلے اسپیت، پندر، پوہان اور جانی میں فورسز کئی دنوں سے فوج کشی کر رہاہے۔جبکہ کوہلو،ڈیرہ بگٹی اور ہرنائی میں بھی فوج کشی کی اطلاعات ہیں۔

بلوچستان کے ضلع پنجگور کے تحصیل پروم کے علاقے گیشتی سے گذشتہ روزپاکستانی فورسزاور مقامی ریاستی ڈیتھ اسکواڈ کے ہاتھوں لاپتہ ہونے والے 2نوجوانوں کی تصاویر سوشل میڈیا پر جاری کردی گئیں۔علاقی ذرائع کے مطابق دونوں نوجوانوں کو پاکستانی فورسز اور ڈیتھ اسکواڈ کے ارکان اغواء کرکے اپنے ساتھ لے گئے ہیں۔جبری گمشدگی کے شکار دونوں نوجوانوں کی شناخت حمید ولد مْرید اور محمد رحیم ولد قادر بخش کے ناموں سے ہوئی ہے۔اغواکاروں نے دونوں افراد کی تصویر کو سوشل میڈیا پر شائع کر دی ہیں۔ذرائع کے مطابق دونوں افراد کو اس وقت اغواء کیا گیا جب وہ باغات میں کام کر رہے تھے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں