پاکستان: پنجاب میں نئے وزیراعلیٰ کا چناؤڈپٹی اسپیکر کو تھپڑ مارے گئے اور بال نوچے گئے

0
44

پاکستان کے صوبہ پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے انتخاب کے لیے آج ہونے والا پنجاب اسمبلی کا اہم ترین اجلاس شدید بدنظمی کا شکار ہو گیا۔

پنجاب اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری کی زیر صدارت ا?ج ساڑھے 11 بجے شروع ہونا تھا تاہم پہلے حکومتی اراکین کے اسمبلی ہال نہ پہنچنے کے باعث اجلاس تاخیر کا شکار ہو ا۔اسمبلی اراکین کو ایوان میں بلانے کے لیے گھنٹیاں بجائی جاتی رہی ہیں لیکن سخت سکیورٹی انتظامات کے دعووں کے باوجود حکومتی خواتین اراکین اسمبلی میں اپنے ساتھ لوٹے بھی لے آئیں اور انہوں نے لوٹے لوٹے کے نعرے لگانا شروع کر دیے جس کے باعث ایوان میں شور شرابہ شروع ہوگیا۔

بعد ازاں جب ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری پنجاب اسمبلی کے اجلاس کی صدارت کے لیے ہال میں پہنچے تو حکومتی اراکین کی جانب سے ان کی جانب لوٹے اچھالیگئے اور ان کی ڈائس کا گھیراؤ کیا گیا، حکومتی اراکین کی جانب سے دوست محمد مزاری کو تھپڑ مارے گئے اور ان کے بال بھی نوچے گئے، سکیورٹی اسٹاف اور اپوزیشن اراکین نے ڈپٹی اسپیکر کو حکومتی اراکین سے بچایا جس کے بعد وہ واپس اپنے دفتر میں چلے گئے۔ اس موقع پر آئی جی پنجاب، پولیس کمانڈوز کے ہمراہ اسمبلی پہنچ گئے، پولیس اہلکاروں کے اسمبلی میں داخلے پر پی ٹی آئی ارکان نے احتجاج کیا،پولیس کی بھاری نفری ڈپٹی اسپیکر کے چیمبر میں بھی پہنچ گئی، بعد ازاں اسپیکر کے احتجاج پر پولیس کو اسمبلی لابی سے باہر نکال دیا گیا۔

حکومتی اراکین نیآئی جی پنجاب پولیس کیخلاف تحریک استحقاق جمع کرادی، تحریک استحقاق میں کہا گیا کہ پنجاب اسمبلی کے ایوان میں پولیس کیوں آئی،پولیس کو ایوان کے اندر داخل ہونے کی اجازت نہیں ہوتی، پولیس کو ایوان میں لاکر ایوان کا تقدس پامال کیا گیا ہے، پولیس سے آئین اور پارلیمانی روایات پامال کرنے پر جواب طلب کیا جائے۔

سینیئر صحافی حامد میر سیگفتگو میں ڈپٹی اسپیکردوست محمدمزاری کا کہنا تھا کہ پنجاب اسمبلی کا اجلاس دوبارہ کنڈکٹ کروں گا، وزیراعلیٰ پنجاب کاانتخاب ہرقیمت پرتھوڑی دیربعدکراؤں گا، آئینی وقانونی تقاضا ہرصورت پورا کریں گے، حملہ پلاننگ کے تحت کرایا گیا۔دوست محمدمزاری کا کہنا تھا کہ جو لوگ ملک میں مارشل لاء لگواناچاہتے ہیں ان کی خواہش پوری نہیں ہوگی، حملیکرنے والوں کے خلاف کوئی انتقامی کارروائی نہیں کریں گے۔

پنجاب اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں اور کسی بھی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے رینجرز کو تعینات کیا گیا ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں