پاکستانی فورسز ہاتھوں اغوا ہونے والی ماہل بلوچ کی گرفتاری کے خلاف احتجاجی مظاہرے

0
18

مقبوضہ بلوچستان کے راجدانی کوئٹہ سے بلوچ خاتون ماہل بلوچ کی جبری گمشدگی اور بعد ازاں مختلف مقدمات میں گرفتاری ظاہر کرنے کے خلاف تربت میں طلباء و شہریوں کی جانب سے احتجاجی ریلی نکالی گئی جبکہ کراچی میں بھی بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا-

مقبوضہ بلوچستان کے ضلع کیچ کے تحصیل تربت میں پیر کے روز خواتین، طلباء و شہریوں کی بڑی تعداد نے عطاشاد ڈگری کالج تربت سے فدا شہید چوک تک احتجاجی ریلی نکالی-شرکاء نے ہاتھوں میں ماہل کی تصویریں اور پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے- مظاہرین نے ماہل پر جھوٹے مقدمات کی اندراج کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے پہلے سی ٹی ڈی نے کئی ایسے مقدمات میں لوگوں کو نامزد کیا ہے لیکن وہ جھوٹے ثابت ہوئے ہیں۔ریلی کے شرکاء کا کہنا تھا پاکستانی فورسز“کاؤنٹر ٹیرزم ڈپارٹمنٹ”اس سے قبل بھی بلوچ خواتین نور جان اور حبببہ پیر جان کو تشدد کے بعد انکے گھروں سے اغواء کرکے جھوٹے مقدمات دائر کرچکے ہیں جو بعد من گھڑت ثابت ہوئے اب وہی عمل ماہل بلوچ کے ساتھ دھرایا جارہا ہے جو قابل مذمت اور غیرقانونی عمل ہے-

دوسری جانب بلوچ یکجہتی کمیٹی کراچی کی جانب سے کراچی پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جہاں مختلف سیاسی تنظیموں سوشل ایکٹویسٹ و انسانی حقوق کے ارکان نے شرکت کی۔

واضح رہے 17 اور 18 فروری کی شب 11 بجے کے قریب مقبوضہ بلوچستان کے راجدانی کوئٹہ سے پاکستانی فورسز نے ایک خاتون ماھل بلوچ کو ان کے بچوں سمیت گھر سے حراست میں لے کر جبری گمشدگی کا شکار بناکر نامعلوم مقام منتقل کردیا تھا۔

واقعہ کے اگلے روز بلوچ تنظیموں و انسانی حقوق کے کارکنان کی شدید احتجاج کے باعث سی ٹی ڈی حکام نے بلوچ خاتون کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے مختلف نوعیت کے کیسز درج کئے تھے

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں