ہم نے آمریت سے لیکر ڈیتھ سکواڈ کی فرعونیت سب کا دلیری سے مقابلہ کیا،ماما قدیر بلوچ

0
18

مقبوضہ بلوچستان کے راجدانی کوئٹہ میں بلوچ جبری لاپتہ افراد اورشہدا کے لواحقین کااحتجاجی کیمپ جاری ہے جسے 4981 دن مکمل ہوگئے ہیں۔

سبی سے سیاسی و سماجی کارکنان رحمت اللہ سیلاچی، نور شاہ خجک اور ہر طبقہ فکر کے لوگوں نے کیمپ آکر لواحقین سے اظہاریکجہتی کی۔

وی بی ایم پی کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ شہدا بلوچ کے خون سے آبیار ایک سرخ بلوچستان، بلوچ نوجوان، بزرگ، بچے اور خواتین وی بی ایم پی نظریاتی پلیٹ فارم سے جنہوں نے سیاہ ترین آمریت سے لیکر ڈیتھ سکواڈ کی فرعونیت سب کا دلیری کے ساتھ نہ صرف پرامن جدوجہد کے ساتھ مقابلہ کیا بلکہ ان قوتوں کو تاریخ ساز شکست دی اور قوم کے ساتھ دیوانگی اور وارفتگی کی لازوال تاریخ رقم کی۔انہوں نے کہا کہ جیل و زندان، اذیت گاہوں کے انسانیت سوز اذیت، پھانسی، جبری اغواء، مسخ شدہ لاشیں، مارو اور پھینکوں جیسے ریاستی بدترین فوجی گردیوں کو اپنے سینے پہ مردانگی کے ساتھ سہا۔

ماما قدیر بلوچ نے کہاکہ بلوچ نوجوان کارکنوں نے قربانیاں اپنی بقا کے لئے دیں۔ تعلیمی اداروں سے لیکر گاو?ں کی گلیوں تک ہر طرف فوج چوکیوں کے علاوہ کچھ بھی نظر نہیں ا?تا۔ ایسی صورتحال ایک نئے بحث کو جنم دیتی ہے کہ وی بی ایم پی جیسے جمہور دوست، ترقی پسند اور عدم تشدد کے حامی فکری پلیٹ فارم آخر کیوں ریاستی دہشت گردی کے زیر عتاب ہے۔

کیوں خواتین اور بزرگ کارکنان کو چن چن کر نشانہ بنایا جارہا ہے۔ کل تک شاید ان سوالوں کا جواب دینا مشکل تھا، لیکن ا?ج کی صورتحال میں جہاں ریاست کے چہرے سے نام نہاد شرافت کا نقاب ہٹ چکا ہے، نام نہاد جمہوریت کا بوسیدہ دیوار جن کی ا?ڑ میں چھپ کر مذہبی جنونیت کو فوج طاقت کے ذریعے عالمی امن کے راہوں کو معدوم کیا جاتا رہا ہے۔ وہ بوسیدہ دیوار فکری اور نظریاتی کارکنوں کی نظریاتی بالیدگی اور مستقل مزاجی کے سبب گر چکی ہے۔ پاکستان پوری دنیا کی نظروں میں انسانی بنیادی حقوق کے اعتبار سے اپنی ریاستی وقار کھو چکا ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں