جڑانوالہ واقعے میں گولی چلتی تو اثرات پورے پنجاب میں پھیل جاتے

0
22

آئی جی پنجاب پولیس عثمان انور کا کہنا ہے کہ جڑانوالہ واقعے میں پولیس کی کوئی غفلت نہیں ہے بلکہ پولیس نے بروقت پہنچ کر لوگوں کی جانوں کا تحفظ یقینی بنایا. ان کا کہنا تھا کہ سولہ اگست کی صبح چھ بجے پولیس کو اطلاع ملی تھی کہ کرسچین کالونی سے قرآن کے کچھ اوراق ملے تھے جس پر مقامی پولیس نے موقع پر پہنچ ان اوراق کو قبضے میں لے کر علاقے کی امن کمیٹیوں کو متحرک کیا جس کی وجہ سے نقصان کم ہوا تھا۔

آئی جی پنجاب عثمان انور کا کہنا تھا کہ اس واقعے کے بعد پولیس نے کل چھ مقدمات درج کے ہیں جن میں سے ایک مقدمہ مسیحی افراد کے خلاف توہین مذہب کی دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے کہ جس میں اب تک تین افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے جبکہ پانچ مقدمات ان افراد کے خلاف درج کے گے جنہوں نے گرجا گھروں اور مسیحی افراد کے گھروں پر حملے کیے تھے. “یہ پانچ مقدمات انسداد دہشت گردی اور عبادت گاہوں کو نقصان پہنچانے کی دفعات کے تحت درج کے گے تھے جن میں اب تک ایک سو ساٹھ کے قریب افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

تاہم مسیحی کمیونٹی کے افراد اب تک کی قانونی کاروائی سے مطمئن نہیں ہیں۔ مسیحی حقوق کے لئے کام کرنے وال رابن ڈینیل کا کہنا تھا کہ ان کے مختلف جگہوں پر واقع اکیس گرجا گھر تباہ ہوئے ہیں اس لئے سب واقعات کے الگ الگ مقدمات درج ہونے چاہئے تھے کیوں کہ تمام واقعات میں الگ الگ افراد ملوث تھے۔

اس حوالے سے آئی جی پنجاب کا کہنا تھا کہ جلاؤ گھیراؤ کے تمام واقعات ایک دوسرے سے جوڑے ہوئے تھے اس لئے ہر گرجا گھر کے جلانے کی الگ ایف آئی آر درج نہیں جا سکتی. عثمان انور کا کہنا تھا کہ ریاست نے متاثرین کی بحالی کے لئے کام شروع کر دیا ہے اور جلد ہی تمام گرجا گھروں کی تزئین و آرائش مکمل کر دی جاے گی۔

ایک سوال کے جواب پر آئی جی پنجاب کا کہنا تھا کہ واقعے کے دن اسسٹنٹ کمشنر جڑانوالہ، جو کہ خود بھی ایک مسیحی تھے، کو ان کی حفاظت کے لئے تبدیل کیا گیا تھا. ان کا کہنا تھا اس دن اسسٹنٹ کمشنر کے گھر پر چار دفعہ حملہ کیا گیا تھا اسلئے ان کی زندگی اور کیریئر کے لئے ضروری تھا کہ ان کو جڑانوالہ سے تبدیل کر دیا جاۓ۔

آئی جی پنجاب کا کہنا تھا اگر اس دن پولیس پر تشدد ہجوم پر گولی چلا دیتی اور لاشیں گر جاتی تو اس کے اثرات پورے پنجاب میں پھیل سکتے تھے۔

واضح رہے کہ سولہ اگست کو فیصل آباد کی تحصیل جڑانوالہ میں ایک پر تشدد ہجوم نے دو مسیحی افراد پر توہین مذھب کا الزام لگا کر کرسچین کالونی پر حملہ کر دیا تھا جس میں ایک سو سے زیادہ مسیحی گھروں اور چار گرجا گھروں کو نذر آتش کر دیا گیا تھا. اس کے بعد یہ فسادات جڑانوالہ کے دیگر نواحی علاقوں میں پھیل گے جو شام تک جاری رہے جس کے نتیجے میں اکیس گرجا گھروں کو جلا دیا گیا جب کہ کئی درجن مسیحی گھروں کو لوٹ مار کے بعد آگ لگا دی گی تھی۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں