ریاست ہی ٹی ایل پی ہے اور پورا ملک جڑانوالہ

0
30

بدھ کے روز پنجاب کے شہر جڑانوالہ میں توہین مذہب کے الزام پر مسیحی آبادیاں اور عباد گاہیں کئی گھنٹوں تک مشتعل ہجوم کے رحم ہو کرم پر رہی ہیں۔ مذہبی بنیادوں پر اکسائے گئے مشتعل ہجوم نے بدھ کے روز اس جلاؤ گھیراؤ کے دوران مسیحی بستیوں کے 86 مکانات اور 19 عبادگاہوں کو نذر آتش کر دیا۔ مکانات سے سازو سامان، زیورات اور نقدی تک لوٹ لی گئیں۔

جمعہ کے روز پیش کی جانے والی سرکاری رپورٹ کے مطابق زیادہ نقصان عیسیٰ نگری کے علاقے میں ہوا، جہاں 40 مکانات اور 3 چرچ جلائے گئے، جبکہ محلہ چمڑہ منڈی میں بھی 2 چرچ اور 29 مکانات نذر آتش کئے گئے۔

ماضی میں اس طرح کے پیش آنے والے متعدد واقعات کی طرح یہ واقعہ بھی افواہوں اور سوچی سمجھی سازش کے تحت لگائے گئے الزامات کا ہی شاخسانہ ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق مقدس اوراق اور توہین آمیز کلمات کے ساتھ مسیحی باپ بیٹے کی تصویریں چسپاں کی گئی تھیں۔ کاغذ پر ان کے فون نمبر اور گھر کا پتہ بھی درج کیا گیا تھا۔

دونوں باپ بیٹے سے اس بابت استفسار بھی کیا گیا، جس پر انہوں نے لاعلمی کا اظہار کیا اور یہ کہا کہ یہ ان کے خلاف سازش ہے۔ تاہم اس سب کے باوجود انہیں وہاں سے فرار ہونا پڑا۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ لین دین کے تنازعہ پر ان کے خلاف یہ سازش رچی گئی تھی۔

تاہم پولیس اور انتظامیہ کی جانب سے اس بات کا نوٹس نہیں لیا گیا۔ مساجد سے جماعت اہلسنت اور تحریک لبیک پاکستان کے رہنماؤں کی جانب سے اعلانات کئے گئے اور قریبی دیہاتوں سے جمع ہونے والے ہجوم نے چند ہی گھنٹوں میں مسیحی آبادیوں کے مکانات اور عبادت گاہیں جلانا شروع کر دیں۔ پولیس اور انتظامیہ محض خاموش تماشائی کا کردار ادا کرتی رہیں۔

پاکستان میں یہ پہلا واقعہ نہیں ہے اور موجودہ حالات کے پیش نظر یہ کہنا بھی مشکل ہے کہ یہ آخری واقعہ ہو گا۔ درحقیقت برصغیر کے مذہبی بنیادوں پر سامراجی بٹوارے کے بعد بظاہر تو ہندوؤں اور مسلمانوں کیلئے الگ الگ ملک بنائے گئے تھے۔ تاہم آج 76 سال گزرنے کے بعد جہاں ہندو دھرم کو بھارت میں سب سے زیادہ آج خطرہ لاحق ہے۔ اسی طرح مسلمانوں کے ملک میں آج سب سے زیادہ اسلام خطرے میں نظر آ رہا ہے۔

ریاست کی تھیوکریٹک بنیادوں، مذہب کے منظم پالیسی کے تحت سیاسی استعمال اور کالے دھن کی وسیع سرائیت سے مزئین جدت اور قدامت کے امتزاج پر مبنی یہ معاشرہ گل سڑکر بوسیدہ اور تعفن زدہ ہو چکا ہے۔ ہجوم کی نفسیات کو ریاست کی ایما پر پروان چڑھایا گیا ہے۔ ہر ایک سانحے کے بعد ریاست کی جانب سے ہجوم کی نفسیات کو تقویت فراہم کی ہے۔

سرمایہ دارانہ نظام کے تحت قائم ریاست کے حکمران طبقات نے قومی جمہوری انقلاب کے فرائض پورے کرنے میں تاریخی نااہلی کی وجہ سے اپنے اقتدار کو جاری رکھنے کیلئے ریاست کو مذہبی جنونیت پر استوار کیا ہے۔ توہین کے قوانین ہوں، مذہبی انتہا پسندی اور عسکریت کا فروغ ہو، یا پھر جنونی گروہوں اور جتھوں کی سرپرستی ہو، اس ریاست نے ہر وہ اقدام کیا ہے، جس کی بنیاد پر اس معاشرے کو تعفن زدہ کیا جائے، تعصبات کو پروان چڑھایا جائے اور محنت کش طبقے کی ایکتا اور طاقت کو کم کرتے ہوئے لوٹ مار اور استحصال کا سلسلہ جاری رکھا جائے۔ یوں اس بوسیدہ نظام کی حکمرانی کو قائم رکھنے کا سامان کیا گیا ہے۔

اقلیت کی حکمرانی کو قائم رکھنے کیلئے برطانوی سامراج کا اکثریت کو سماجی طور پر کمزور کرنے کا فارمولا اپنایا گیا، تاکہ سماج کو اتنا لاغر اور کمزور کر دیا جائے کہ اس میں اس نظام کے خلاف کسی قسم کی بغاوت نہ پنپ سکے۔ یہی وجہ ہے کہ مختلف مذہبی فرقوں کی ریاستی سرپرستی کی جاتی رہی ہے۔ سیاسی طور پر ان تعصبات کو معاشرے پر مسلط کرنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔ ساتھ ہی ساتھ مذہبی اقلیتوں کو وقتاً فوقتاً اس گھناؤنے کھیل کی بھینٹ چڑھایا جاتا رہا ہے۔

جڑانوالہ کا یہ واحد واقعہ نہیں ہے۔ اس سے قبل بہت سے ایسے کیس سامنے آئے ہیں، جن میں اقلیتوں بشمول احمدیوں، شیعہ، عیسائیوں اور ہندوؤں پر توہین کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ ٹارگٹ کلنگ اور ماب لنچنگ (ہجوم کے ہاتھوں قتل) کے متعدد واقعات کے علاوہ جلاؤ گھیراؤ اور بم دھماکوں کے متعدد واقعات اب تک پیش آ چکے ہیں۔

اپریل 2018ء میں کوئٹہ میں فائرنگ کے نتیجے میں 4 مسیحی ہلاک ہوئے، دسمبر 2017ء میں کوئٹہ میں ہی ایک چرچ پر حملے میں 7 افراد مارے گئے، مارچ 2016ء میں لاہور میں ایسٹر کا تہوار بنانے والے مسیحیوں پر ہونے والے خودکش حملے میں 70 افراد ہلاک اور 340 سے زائد زخمی ہوئے۔ مارچ 2015ء میں لاہور میں ہی ایک اور خودکش دھماکہ ہوا، جس میں 14 افراد ہلاک اور 70 سے زائد زخمی ہوئے۔ 2013ء میں پشاور میں ایک چرچ میں ہونے والے دھماکے میں 127 افراد ہلاک ہوئے۔ 2011ء میں اقلیتوں کے وزیر شہباز بھٹی کو بھی طالبان نے گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔

اسی طرح مشتعل ہجوم کے متعدد واقعات رونما ہو چکے ہیں۔ جڑانوالہ سے قبل 2009ء میں پنجاب کے ہی ضلع گوجرہ میں 6 مسیحیوں پر توہین مذہب کے الزام میں مشتعل ہجوم نے 60 سے زائد مکانات اور ایک چرچ کو آگ لگا دی تھی۔ اس واقعے میں 8 مسیحی افراد زندہ جل گئے تھے۔ 2005ء میں بھی ہجوم نے کئی گرجا گھروں اور مسیحی سکولوں کو نذر آتش کر دیا تھا۔ 2015ء میں لاہور کے علاقے یوحنا آباد میں بھی ایسے ہی واقعات میں بڑے پیمانے پر مسیحی برادری کی عبادت گاہوں اور املاک کو جلا دیا گیا تھا۔

اس کے علاوہ سکھوں کی ٹارگٹ کلنگ، ہندوؤں کی عبادت گاہوں پرحملوں، توہین مذہب کے الزامات کے تحت ہجوم کے ہاتھوں قتل عام، جبری مذہب کی تبدیلیوں سمیت واقعات کا ایک لامتناعی سلسلہ ہے، جو ضیا الحق کی جانب سے توہین کے قوانین میں نئی اور سخت گیر ترامیم متعارف کروانے کے بعد زیادہ شدت پکڑتے جا رہے ہیں۔

توہین کے الزامات اور ہجوم کے ہاتھوں قتل عام، جلاؤ گھیراؤ جیسے واقعات میں سے اکثریت کے پیچھے جھوٹی معلومات اور سوچی سمجھی سازش کے تحت لگائے گئے الزامات کا تناسب سب سے زیادہ ہے۔ اس کے علاوہ ذہنی امراض کی وجہ سے توہین کے ارتکاب جیسے واقعات بھی موجود ہیں۔ تاہم ریاست کی جانب سے جھوٹے الزامات عائد کرنے والوں اور ہجوم کے ہاتھوں ہونے والی ان کارروائیوں کے خلاف کوئی ٹھوس پالیسی اور حکمت عملی اپنانے کی بجائے ہمیشہ حوصلہ افزائی ہی کی گئی ہے۔

حالیہ حکومت نے جاتے جاتے توہین کے قوانین میں مزید ترامیم کرتے ہوئے شیعہ اقلیتی فرقے کو بھی مزید خطرات سے دو چار کر دیا ہے۔ ریاستی سرپرستی میں گزشتہ چند ماہ کے دوران احمدیوں کی دہائیوں پرانی عبادت گاہوں کو مسمار کرنے کے عمل سے بھی اس مذہبی انتہا پسندی اور اقلیتوں کے خلاف جرائم کے حوصلہ افزائی ہی کی گئی ہے۔

سابق گورنر پنجاب کے قاتل محافظ کو سزائے موت دیئے جانے کے بعد اسی کے نام پر مذہبی سیاسی گروہ کے قیام کی ریاستی سرپرستی سمیت ماضی میں کئے جانے والے اقدامات کے بعد یہ کہنا بالکل غلط نہ ہو گا کہ مجموعی طور پر ریاست کی بنیادوں پر مذہبی جنونیت اس طور سرائیت کر چکی ہے کہ یہ پوری ریاست ہی ٹی ایل پی ہے۔

ریاست کی جانب سے تیار کئے گئے عفریت نفسیاتی طور پر اس قدر اس معاشرے پر حاوی ہو گئے ہیں کہ نہ صرف پورا معاشرہ بلکہ یہ ریاست بھی ان کے ہاتھوں یرغمال ہو چکی ہے۔ تمام سیاسی قوتیں بے بس اور لاچار نظر آتی ہیں، ہر کوئی آواز اٹھانے سے گریزاں ہے۔

روزگار، تعلیم، صحت، ٹرانسپورٹ، رہائش اور انفراسٹرکچر جیسے مسائل حل کرنے سے قاصر اس ریاست نے سماج کو ایک ایسی اندھی وحشت میں دھکیل دیا ہے کہ جہاں سے نکلنے کا کوئی راستہ اس نظام کے اندر رہتے ہوئے موجود نہیں ہے۔

مسائل کے اس انبھار میں قیادتوں کی متبادل فراہم کرنے میں ناکامی نے معاشرے کو مزید گھٹن زدہ کر دیا ہے۔ اس سیاست اور ریاست سے لوگوں کا اعتماد اور یقین اٹھ چکا ہے۔ اس نظام کے خلاف غم و غصہ بھی ہجوم کی نفسیات کی صورت میں اپنا اظہارکر رہا ہے، جس کی وجہ سے یہ معاشرہ مزید تاراج ہو رہا ہے۔ اس نظام اور ریاست کے پاس اس تعفن، بربادی اور نفسانفسی سے نکلنے کا کوئی راستہ موجود نہیں ہے۔ بار بار کے تجربات نے یہ ثابت کیا ہے کہ آئین اور قانون پر عملدرآمد، سزاؤں، تحقیقاتی کمیٹیوں اور تحفظ کیلئے نئی فورسز کے قیام سے یہ جنونیت قابو ہونے والی نہیں ہے۔

اس جنونیت کا خاتمہ اسی صورت ممکن ہے کہ اس معاشرے سے معاشی اور سیاسی بربادیوں کا خاتمہ کیا جائے اور اس ریاست کے ڈھانچے کو از سرنو جدید خطوط پر استوار کیا جائے۔ اس کیلئے ضروری ہے کہ اس نظام کی بربادیوں کے خاتمے کیلئے سنجیدہ سیاسی متبادل کی تعمیر کی جائے۔ محنت کشوں اور نوجوانوں کو مہنگائی، بیروزگاری، لاعلاجی، لاقانونیت اور جنونیت کے خلاف سیاسی طور پر محترک کیا جائے اور اس نظام کے خاتمے کیلئے فیصلہ کن جدوجہد کا آغاز کیا جائے۔ جدوجہد ایک ایسے معاشرے کیلئے جہاں انسان کو حقیقی معنوں میں انسانیت کی معراج سے سرفراز کیا جا سکے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں