مقبوضہ بلوچستان:خاران سے فورسز ہاتھوں ایک اورنوجوان جبری طور پر لاپتہ

0
44

مقبوضہ بلوچستان کے ضلع خاران میں پاکستانی فورسز، خفیہ اداروں اور سی ٹی ڈی کی جانب سے جبری گمشدگیوں اور فوجی جارحیت کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔فورسز و خفیہ اداروں نے خاران سے ایک اور نوجوان کو حراست میں لے کر جبراً لاپتہ کردیاہے۔

لاپتہ کئے گئے نوجوان کی شناخت اللہ نور ولد حسن نور کے نام سے ہوگئی۔

مقامی ذرائع کے مطابق پاکستانی فورسزوخفیہ اداروں کے اہلکاروں نے گزشتہ روز شام کے وقت خاران قلعہ ایریا میں واقع ایک گھر پر چھاپہ مار کر اللہ نور ولد حسن نور نامی نوجوان کو اغواء کرکے ماورائے عدالت نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔گزشتہ تین دنوں سے اب تک اللہ نور سمیت 6 نوجوان جبری طور پر اْٹھائے جاچکے ہیں جن میں سے دو افراد نجیب یلانزئی اور جابر یلانزئی بازیاب ہوگئے جبکہ پرویز بادینی، یوسف بادینی، شفقت یلانزئی اور اللہ نور تاحال اداروں کی قید میں ہیں۔

واضح رہے کہ خاران میں جبری گمشدگیوں کا یہ نیا سلسلہ 14 اکتوبر کو سابق چیف جسٹس محمد نور مسکانزئی کی بی ایل اے کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد سے شروع ہوا ہے۔ محمد نور مسکانزئی کی ہلاکت کے بعد ایف سی، ایم آئی، آئی ایس آئی، پولیس اور سی ٹی ڈی کی شراکت داری سے ایک جے آئی ٹی تشکیل دی جاچکی ہے جس کی سربراہی سی ٹی ڈی بلوچستان کے ڈائریکٹر جنرل کررہے ہیں۔مذکورہ جے آئی ٹی کیس کی خانہ پری کیلئے پہلے سے لاپتہ افراد کو فیک انکاؤنٹر میں مارنے علاقے سے بے گناہ نوجوانوں کو اغواء کرنے میں میں مصروف ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں