منظور پشتین کو تجویزوں سے زیادہ یکجہتی اور ہمدردی کی ضرورت

0
24

رواں ماہ 18 اگست کو پاکستان کے قبائلی علاقوں سے ابھرنے والی عوامی حقوق کی تحریک پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) نے ایک بارپھر اسلام آباد میں ایک بڑا جلسہ منعقد کیا۔ 7 سال سے پرامن طور پر احتجاجی جلسے کرتے ہوئے چند بنیادی عوامی مطالبات ریاست کے سامنے رکھنے والی اس تحریک کی قیادت نے اس بار قدرے جارحانہ الفاظ کا استعمال کیا۔ تاہم گولیوں، لینڈ مائنز اور بم دھماکوں کا نشانہ بنائے جانے والوں کے الفاظ بھی ریاست کیلئے ناقابل برداشت ہیں۔

پی ٹی ایم نے اپنے آغاز سے ہی ایک ایسے کمیشن کے تقرر کا مطالبہ کیا تھا، جو پشتون علاقوں پر مسلط ہونے والی جنگ کے حقائق سامنے لائے اور جنگ زدہ عوام اور ریاست کے درمیان مصالحت کیلئے تجاویز پیش کرے۔ اس کے علاوہ تحریک کے دیگر مطالبات میں زندہ رہنے کا حق، عسکریت پسندوں کی پشت پناہی کا خاتمہ، لاپتہ افراد کو بازیاب کر کے عدالتوں کے سامنے پیش کرنا، آبادیوں سے فوجی چوکیوں کا خاتمہ، آئی ڈی پیز کی آباد کاری، لینڈ مائنز کا خاتمہ وغیرہ شامل ہیں۔

ریاست کی جانب سے البتہ ان مطالبات کو ناجائز یا غلط کبھی بھی نہیں قرار دیا گیا۔ مطالبات ماننے کی بجائے مگر ریاست نے پی ٹی ایم کو تشدد پر اکسانے، غیر ملکی ایجنٹ قرار دینے، دہشت گرد قرار دینے، میڈیا بلیک آؤٹ کرنے سمیت مختلف حربے اپنائے۔ ہر جلسہ اور پروگرام منعقد کرنے پر بغاوت، غداری، دہشت گردی، نفرت انگیزی اور اشتعال انگیزی کے الزامات کے تحت مقدمات درج کئے جاتے رہے ہیں۔

پہلے تو سپریم کورٹ کے سامنے اعلان کردہ جلسے کی راہ میں ریاست نے رکاوٹیں کھڑی کی گئیں، گرفتاریاں ہوئیں، راستے روکے گئے اور پی ٹی ایم قیادت کو ترنول کے مقام پر جلسہ کرنے پر مجبور کر دیا گیا۔ جلسہ ختم ہونے پر وزیر داخلہ نے پی ٹی ایم قیادت کا جلسہ کی جگہ تبدیل کرنے پر شکریہ بھی ادا کیا۔ بعد ازاں اپنی کھڑی کی گئی رکاوٹوں کا الزام پی ٹی ایم قیادت پر عائد کرتے ہوئے 38 افراد کے خلاف مقدمہ درج کر دیا گیا۔ ایک مقدمہ سے طاقتوروں کی تشفی نہیں ہوئی، اس لئے کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کے ذریعے انہی افراد کے خلاف ایک اور مقدمہ غداری، بغاوت، اداروں کو بدنام کرنے اور دہشت پھیلانے کی دفعات کے تحت درج کر لیا گیا۔

دونوں مقدمات میں ناموں کی ترتیب اور کہانی میں کوئی فرق کرنے کا تردد بھی نہیں کیا گیا۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پہلا مقدمہ ان کی منشا کے مطابق درج نہ ہوسکا، اس لئے اسی کہانی پر دوسری دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔ میڈیا نے حسب سابق و حسب معمول اس جلسہ کا مکمل بلیک آؤٹ کیا۔ مقدمات میں البتہ سرکاری اہلکاروں نے میڈیا کو بطور گواہ لکھ دیا ہے۔

پی ٹی ایم سربراہ منظور پشتین کی تقریر پر بھی حسب معمول شدید رد عمل دیکھنے کو ملا ہے۔ حکمران طبقات سے تعلق رکھنے والی تقریباً تمام جماعتوں کے علاوہ ترقی پسند سیاست کے دعویداروں کی جانب سے بھی کہیں براہ راست اور کہیں بلواسطہ تنقید کی گئی۔ بائیں بازو کے ساتھیوں کی جانب سے کچھ تنقید مشوروں کی صورت میں بھی کی گئی، جس کا مقصد پی ٹی ایم کو نقصان پہنچانا نہیں تھا بلکہ اپنی نظری و فکری بصیرت کے مطابق ڈھالنے کی کوشش تھی۔ یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ یہ دوست پی ٹی ایم سے وہ نتائج لینا چاہتے ہیں، جو ان کی خواہشات پر مبنی ہیں۔ ان نتائج کیلئے البتہ تمام تر بوجھ منظور پشتین کے کندھوں پر ڈالنے کی کوشش ہو رہی ہے۔

منظور پشتین کی ماضی میں کی گئی تقریروں اور حالیہ تقریر میں فرق کا تجزیہ ضرور کیاجا سکتا ہے۔ تحریک کی کمزوریوں اور طاقتوں کو زیربحث لایا جا سکتا ہے، اس کے پوٹینشل سمیت قیادت کی حکمت عملی پر بحث کی جا سکتی ہے۔ یہاں تک کے قیادت کو تجاویز بھی دی جا سکتی ہیں۔ تاہم ہر ایک عمل کا ایک وقت ہوتا ہے۔ یہ طے کرنا سب سے اہم ہوتا ہے کہ کون سی بات کس وقت کی جانی چاہیے۔ جب پوری ریاست ایک تحریک کو کچلنے یا دیوار کے ساتھ لگانے کیلئے ایک پروپیگنڈہ مہم چلا رہی ہو۔ تب انقلابی اپنی تجاویز پر مبنی تنقید کے تیر برسانا شروع کر دیں، تو یہ عمل دوسرے لفظوں میں ریاستی پروپیگنڈہ کو تقویت پہنچانے کے مترادف ہی ہوتا ہے۔ مظلوم و محکوم کے دکھوں کی درمانی کیلئے اس کے ساتھ یکجہتی کرنے، اس کے حوصلے بڑھانے کی بجائے، اسے اپنے دکھ بیان کرنے کے طریقے سمجھانا دوسرے لفظوں میں ’وکٹم بلیمنگ‘ کے ہی زمرے میں آتا ہے۔

ہر تحریک مختلف مراحل سے گزرتی ہے، اتار چڑھاؤ آتے ہیں، نظری اور فکری طور پر آگے بڑھتی یا پستی کا شکار ہوتی ہے۔ قیادتوں میں شخصی اور فکری تبدیلیاں بھی آتی ہیں۔ اس کی وجہ ٹھوس مادی حالات میں آنے والی مسلسل تبدیلیاں ہوتی ہیں۔ جب تحریکوں کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا ہے تو قیادتیں بڑا سوچنے اور اپنی بساط سے بڑے عمل کرنے جیسے حوصلے سے سرشار ہوتی ہیں۔ تاہم جب داخلی یا بیرونی حملوں، فیصلوں اور حکمت عملیوں کے امتزاج کی وجہ سے ہونے والی یہی تبدیلیاں تحریک کی مقبولیت کو نسبتاً کم کر دیتی ہیں، ریاستی جبر میں اضافہ ہو جاتا ہے، یا لمبے عرصہ کی سرگرمی سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو پاتے، تو بعض اوقات قیادتیں بھی فرسٹریشن کا شکار ہو کر مہم جوئی پرمبنی رد عمل دیتی ہیں۔

پر امن عوامی تحریک ہمیشہ ریاست اور عوام کے مابین ایک اعصابی جنگ ہوتی ہے۔ جس کے اعصاب مضبوط ہوتے ہیں، حتمی طور پر فتح مندی اسی کا مقدر بنتی ہے۔ بعض اوقات تحریک کے مطالبات کی نوعیت اس طرز کی ہوتی ہے کہ اس کو زیادہ پھیلایا جانا ممکن نہیں ہوتا۔ پی ٹی ایم کی صورت میں بھی اسی محدودیت کے امکان کو ریاست اپنے حق میں استعمال کرنے میں بہت حد تک کامیاب ہوتی ہوئی نظر آئی ہے۔ ایک مخصوص علاقے میں تحریک کو مقید کر دینے سے ریاست کو زیادہ وقت تک اس تحریک کو برداشت کرنے کی طاقت میسر آئی ہے۔ اس طرح کی کیفیت تحریکوں کی قیادتوں کیلئے چیلنج بن جاتی ہے۔ اس کیفیت سے نکلنے کیلئے فرسٹریشن میں اٹھائے گئے اقدامات تحریک کو کچلنے کیلئے ریاست کو موقع بھی فراہم کر سکتے ہیں۔ تاہم اس طرح کے اقدامات بعض اوقات نئی اٹھان اور ابھارکا باعث بھی بن سکتے ہیں۔

انقلابیوں کی جانب سے ایک مطالبہ ہر قومی، علاقائی، لسانی و نسلی تحریک سے کیا جاتا ہے کہ وہ دیگر اقوام وغیرہ سے طبقاتی جڑأت پیدا کرنے کی کوشش کرے۔ گو طبقاتی نظام میں جب تک طبقاتی جڑأت قائم نہیں کی جاتی اور تحریکیں ملک گیر اثرات قائم نہیں کرتیں تو کامیابی کے امکانات محدود ہوتے جاتے ہیں۔ تاہم طبقاتی جڑأت کو یقینی بنانے کیلئے دیگر علاقوں میں مصنوعی طور پر تحریکیں منظم کرنا مکمل طور پر تحریک میں شامل محکوم و مظلوم قومیت کا ہی فریضہ نہیں ہوتا۔ یہ فریضہ دیگر قوموں اور بالخصوص حاکم قوم کے محنت کشوں کی ہر اول پرتوں یا قیادتوں کا ہوتا ہے کہ وہ مظلوم قومیتوں کے مسائل کے گرد ابھرنے والی ان تحریکوں کے ساتھ جڑأت قائم کرتے ہوئے انکے دائرہ کار کو وسیع کرنے کی کوشش کریں۔ محکوم قومیتوں کی تحریکوں کی قیادتوں پر البتہ اپنی جدوجہد کو طبقاتی بنیادوں پر استوارکرنے کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ اگر وہ اس ذمہ داری کو نبھانے سے قاصر رہیں تو ناگزیر طور پر ان کی تمام تر توانائیاں محکوم قومیتوں کی حکمران اشرافیہ اور بورژوازی کے مفادات کی ترجمانی پر مرکوز ہو جاتی ہیں۔

جس طرح حاکم قومیت کی اکثریت کی وجہ سے اس کے حکمران طبقے کا حجم زیادہ ہوتا ہے اور اس کا استحصالی کردار زیادہ بڑھا ہوا نظر آتا ہے۔ اسی طرح یہ قومی اور طبقاتی استحصال محکوم قومیت کے حکمران طبقے کی سہولت کاری، استحصال اور حاکمیت کے بغیر بھی ممکن نہیں ہوتا۔ اگر پاکستان کی فوجی قیادت میں اکثریت پنجاب سے ہے، تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ قیادت میں شامل سندھ، کے پی، بلوچستان، جموں کشمیر و گلگت بلتستان کے افراد فوج کی ماضی یا حال کی پالیسیوں کے خلاف اپنی قومیتوں کے محافظوں کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ اسی طرح اگر پنجاب کے حکمران طبقات استحصالی کردار کے حامل ہیں اور تعداد میں زیادہ ہیں، تو سندھ، کے پی، بلوچستان، جموں کشمیر اور گلگت بلتستان کے حکمران طبقات اور حکمران اشرافیہ کا حصہ افراد بھی اس استحصال میں برابر کے شریک ہیں۔

ماضی میں اگر پی ٹی ایم کے خلاف پابندیوں اور مقدمات پر نوازشریف، عمران خان، زرداری، شاہد خاقان عباسی اور شہباز شریف وغیرہ نے خاموشی اختیار کئے رکھی، تو موجودہ وقت نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑنے بھی پشتون ہونے کے باوجود یہ خاموشی اسی طرح قائم رکھی۔ یہاں تک کہ نگران وزیر داخلہ سرفراز بگٹی لاپتہ بلوچ نوجوانوں کی بازیابی پر اگر خاموش نظر آتے ہیں، تو پی ٹی ایم کے خلاف مقدمات قائم کرنے کی ذمہ داری بھی انہی کی وزارت اور محکمہ پرہے، جس پر انہوں نے کوئی وضاحت بھی نہیں کی۔

میڈیا بلیک آؤٹ اگر ماضی میں سیاسی حکمرانوں کی موجودگی میں کیاجاتا رہا ہے، تواس بار نگران وزارت اطلاعات ایک صحافی کے پاس ہے۔ اب بھی اسی طرح ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے کسی شعبہ سے میڈیا کو روزانہ کی بنیاد پر گائیڈ لائنز اور مہمانوں کی فہرستیں فراہم کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔

جہاں یہ بات درست ہے کہ پشتون علاقوں میں تعینات ایجنسیوں کے اہلکاران پنجابی ہیں اور وہ عوامی حقوق کی بازیابی کی جدوجہد کرنے والوں کی پروفائلنگ اور ان کے خلاف مقدمات قائم کرنے کیلئے پولیس پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ وہاں یہ بات بھی اسی طرح حقیقت ہے کہ جموں کشمیر میں تعینات ایجنسیوں کے پشتون اور دیگر قومیتوں کے اہلکاران بھی یہی فریضہ سرانجام دے رہے ہیں۔ یہ ضرور ہے کہ پنجاب میں آبادی زیادہ ہونے کی وجہ سے ہر ادارہ اور محکمہ میں پنجاب کے اہلکاران و افسران کی تعداد زیادہ ہے۔ اس بات کو بنیاد بنا کر البتہ پنجابیوں سے نفرت کو ابھارنا درحقیقت پشتون، بلوچ، سندھی اور جموں کشمیر و گلگت بلتستان کے حکمرانوں کے مفادات کی ترجمانی کے مقاصد توپورے کر سکتا ہے، مگر مظلوم قومیتوں کے محنت کشوں کی نجات کا باعث نہیں بن سکتا۔

قبائلی علاقوں اور پشتون خطہ میں ریاست نے اگر دہشت گردی کی پناہ گاہیں بنائیں اور ان کو پروان چڑھایا، تو اس عمل میں پشتون حکمران بھی اتنے ہی ذمہ دار اور حصہ دار ہیں۔ قاضی حسین احمد سے صوفی محمد، ملا فضل اللہ اور فادر آف طالبان کہلانے والے سمیع الحق تک ایسے سہولت کار اور حکمران طبقات کے نمائندے پشتون علاقوں میں موجود تھے، جنہوں نے پشتون خطہ کو دہشت گردی سے تاراج کرنے میں ریاست کا ساتھ دیا۔ آج بھی پشتونوں کو استعمال کئے بغیر ریاست دہشت کا کاروبار جاری نہیں رکھ سکتی۔ اس لئے مصائب سے نجات کی یہ لڑائی قومی تعصب کی بنیاد پر نہ لڑی جا سکتی ہے اور نہ ہی جیتی جا سکتی ہے۔

پی ٹی ایم کی تحریک نے گزشتہ 7 سالوں میں جہاں پاکستانی سماج پر گہرے اثرات مرتب کئے ہیں۔ ریاست کو پیچھے دھکیلنے میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ اس کے علاوہ ریاست کو بے شمار مطالبات منظور کرنے پر بھی مجبور کیا ہے۔ سب سے بڑھ کر پشتون معاشرے کو دہشت گردی کے خلاف جدوجہد کرنے پر تیار کیا ہے۔ وہیں جن مسائل کے گرد یہ تحریک ابھری تھی، وہ ابھی تک پوری طرح حل نہیں ہو سکے ہیں۔ ان مسائل میں لاپتہ افراد کی بازیابی کا مطالبہ پشتون خطہ کے علاوہ دیگر علاقوں میں بھی موجود ہے۔ اس کے علاوہ زیادہ تر مسائل کا سامنا صرف پشتون خطہ کے قبائلی علاقوں کے لوگوں کو ہے۔ مثال کے طور پر لینڈ مائنز قبائلی علاقوں میں بچھائی گئی ہیں، جن سے آئے روز ہلاکتیں ہو رہی ہیں۔ چیک پوسٹوں پر تذلیل پشتون اور بلوچ قومیتوں کے محنت کشوں کی سب سے زیادہ ہوتی ہے۔ قبائلی علاقوں میں چیک پوسٹیں آبادیوں میں موجود ہیں۔آئی ڈی پیز کا مسئلہ پشتون خطہ میں ہے۔ سب سے بڑھ کر دہشت گردی کی اماجگاہ اسی خطہ کو بنایا گیا اور اسی دہشت گردی کے نتائج کے ذمہ داران کے احتساب کا مطالبہ کیاجا رہا ہے۔

بنیادی طور پر اگر فرق کیاجائے تو پی ٹی ایم تحریک کے ساتھ جڑے افراد زندہ رہنے کا حق مانگ رہے ہیں۔ روزگار، تعلیم، علاج، رہائش جیسے بنیادی مطالبات بھی نہیں کر رہے۔ جہاں جنگ زدہ ماحول ہو، وہاں اس سے بڑھ کر سوچنے کی کوشش بھی نہیں کی جا سکتی۔

تحریک کو ابتدا میں لاہور، کراچی، فیصل آباد اور دیگر علاقوں میں پھیلانے کی کوشش کی گئی، جس کی وجہ سے مطالبات اور پروگرام میں بھی ایڈوانسمنٹ آ رہی تھی۔ تاہم پھیلاؤ کی اس کوشش کی معروضی سختیوں کی وجہ سے ناکامی اور ریاستی جبر نے پی ٹی ایم کو قبائلی علاقوں تک محدود کر دیا۔ یہی محدودیت اور دہشت گردی سمیت دیگر مسائل میں بتدریج اضافے کی وجہ سے عوامی پرتوں کا پریشرشاید قیادت کی فرسٹریشن کی صورت میں بھی اپنا اظہار کر رہا ہے۔

تاہم اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اس تحریک کی حمایت اوریکجہتی کو ترک کر دیا جائے۔ پاکستان کے دیگر خطوں میں اگر محنت کش طبقہ تحریکوں میں اپنا اظہار کرتا ہے، تو پشتون خطہ کی ان تحریکوں کے ساتھ انکی طبقاتی جڑأت قائم ہوتے دیر نہیں لگے گی۔ انقلابی قوتوں کو محکوم قومیتوں کی تحریکوں کے ساتھ یکجہتی اور حمایت کو قائم کرنے کے ساتھ ساتھ محنت کشوں کو اس نظام کے خلاف منظم کرنے کے عمل میں سرگرم ہونے کی ضرورت ہے۔ کوئی ایک بھی چنگاری بغاوت کے وہ شعلے بھڑکانے کا موجب بن سکتی ہے، جو ظلم اور بربریت پر مبنی نظام کے خاتمے پر منتج ہو گی۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں