پاکستان میں موجود افغان مہاجرین کی ملک بدری روکی جائے: آن لائن پٹیشن دائر

0
26

پاکستان میں موجود افغان مہاجرین کے انخلاء کا سلسلہ روکنے اور افغان مہاجرین کے ساتھ ملکی اور عالمی سطح پر یکجہتی کیلئے آن لائن پٹیشن دائر کی گئی ہے۔

پٹیشن پر سینکڑوں افراد نے دستخط کر دیئے ہیں۔ یہ پٹیشن انگریزی، پشتون، دری، اردو، ترکش سمیت دیگر زبانوں میں دائر کی گئی ہے اور آن لائن ذرائع سے مسلسل شیئر کی جا رہی ہے۔

پٹیشن میں لکھا گیا ہے کہ ہم دستخط کرنے والے حکومت پاکستان کے ملک بدری کے منصوبے کو مسترد کرتے ہیں اور پاکستان اور دیگر جگہوں پر موجود افغانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہیں۔

تمام افغان پاکستان کا حصہ ہیں اور انہیں باضابطہ طور پر تسلیم کیا جانا چاہیے۔ مستقل رہائش، شہریت اور پناہ کے اصولوں کے برقراررکھا جانا چاہیے۔

پاکستان میں افغانوں کی جدوجہد کو نسلی اور مذہبی اقلیتوں، سیاسی اختلاف، بے گھر پاکستانیوں، خواتین اور دیگر پرتوں کی جدوجہد سے جوڑا جانا چاہیے۔ پاکستان میں افغانوں کی جدوجہد دنیا بھر کے افغانوں کے ساتھ دنیا بھر کے مظلوم لوگوں، مہاجرین اور تارکین وطن کی جدوجہد سے بھی جڑی ہوئی ہے۔

پٹیشن میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ہم پاکستان میں افغانوں کے ساتھ یکجہتی کے طور پر کھڑے ہیں۔ یہ کام ان کے حق اور اپنی ذمہ داری کے طور پر کر رہے ہیں، کسی خیرات یا انسانی ہمدردی کے طور پر نہیں کر رہے ہیں۔ ملک کے اندر نسلی اور مذہبی اقلیتوں اور قوموں کو تقسیم کرنے کی تمام کوششوں کو مسترد کرتے ہیں۔

پٹیشن میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ عالمی سطح پر افغانوں کے ساتھ کام کرنے والے متعلقہ افراد، کارکنوں، کمیونٹیز اور تنظیموں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ افغانوں کے ساتھ اظہار یکجہتیجاری رکھیں۔ افغان کمیونٹی کے ارکان کو نسلی تشدد سے بچانے کیلئے منظم کریں۔

پٹیشن میں عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ افغانستان کے اندر اور اس سے باہر افغانستان کے عوام کے لئے اپنی ذمہ داری کو تسلیم کریں۔ پاکستان سمیت دیگر جگہوں پر افغانوں کی ملک بدری کو ختم کرنے کا مطالبہ کریں۔

پٹیشن میں برطانیہ،جرمنی، کینیڈا، امریکہ اور دیگر حکومتوں سے بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ افغان شہریوں کی نقل مکانی کے عمل کو فوری طور پر تیز کیا جائے، کیونکہ ہزاروں پاکستان میں ٹرانزٹ میں پھنس گئے ہیں۔ افغانوں اور دیگر کیلئے پناہ کے محفوظ راستے فوری طورپر کھولے جائیں۔

پٹیشن میں بین الاقوامی نقل مکانی کے نظام سے بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ فوری وطن واپسی کے پروگراموں کی حمایت سے ہٹ کر پاکستان میں افغانوں کے طویل المدتی قانونی حقوق کی وکالت پر توجہ مرکوز کریں۔

حکومت پاکستان سے مطالبہ کیاگیا ہے کہ افغانوں کی من مانی حراست اور ہراسگی کا سلسلہ بند کیا جائے۔گھروں کو مسمار کرنا بند کیا جائے۔ افغانوں کے پاکستان چھوڑنے کے مطالبات کو ختم کیا جائے اور کسی بھی جاری ملک بدری کو فوری طور پر روکا جائے۔حفاظت کی تلاش میں تمام کمزور افغانوں کو تحفظ فراہم کرنا جاری رکھا جائے۔ غیر دستاویزی افغانوں کو پناہ کے نظام میں شامل کرنے کیلئے راستے کھولے جائیں۔ پاکستان کے اندر ایک قانونی پناہ گزین اور پناہ کے فریم ورک کو تیار کرنے کی اجازت دی جائے، جس میں طویل المدتی رہائش اور شہریت کے راستے شامل ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں