پاک فوج کے ناقدین سخت ترین انتقام کے نشانے پر – نیوز انٹر ونشن خصوصی رپورٹ

0
326

پاک فوج پاکستان کا ایک ایسا ادارہ جسے مقدس گائے کے طور پر جانا جاتا ہے۔

پاکستان میں یہ بات مشہور ہے کہ پاک فوج پر تنقید یعنی اپنی زندگی سے ناتا توڑناہے یا انتقامی کارروائی کیلئے تیار رہناہے۔

پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے گذشتہ دنوں یہ بات کہی تھی کہ مجھ پر نواز شریف نے تنقید کی برداشت کیا۔لیکن فوج پر تنقید برداشت نہیں کریں گے۔

یہ سب جانتے ہیں کہ پاک فوج اپنے اوپر کسی بھی قسم کی تنقید کو برداشت نہیں کرتا۔اسی لئے میڈیامیں فوج اور اس سے منسلک کسی پر بھی ناقدانہ رائے کا اظہار ممنوع ہے اگر ایسا ہوا تووہ فوج کی انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بن جائے گا۔جیسے ٹارگٹ کلنگ یامسنگ پرسنز اور غدار کی لمبی فہرست میں اس کا نام بھی شامل ہوجائے گا۔

پاکستان میں پاک فوج اور اس کے تمام افسران،برگیڈیئرز، کرنلز وجرنیلز کے ناقدین ہمیشہ اس کے استحصال کا شکار رہے ہیں۔

پاکستان کے سینئر صحافی حامد میر نے جب بلوچ مسنگ پرسنز کا معاملہ پاکستان کی اسٹریم میڈیا میں اٹھایا توسن 2014میں کراچی شہر میں اس پر قاتلانہ حملہ ہوا جس سے وہ بچ گئے۔

اس حملے میں اسے چھ گولیاں لگیں تھیں۔ کامیاب آپریشن سے چارگولیاں لکال لی گئیں جبکہ دو گولیاں آج بھی اس کے جسم میں موجود ہیں۔

حملے سے پہلے حامد میر نے ”جنگ میڈیاانتظامیہ“، اپنے خاندان اور حکومت کے کچھ لوگوں کو تحریری طور پر آگاہ کر دیا تھا کہ اگر ان پر حملہ ہوا تو پاکستان کا خفیہ ادارہ آئی ایس آئی اور اس کے سربراہ جنرل ظہیر الاسلام اس کے ذمے دار ہوں گے۔

اس حملے کا پس منظر پاکستانی فوج پر تنقید ہی ہے۔جب حامد میر نے بلوچ مسنگ پرسنز کا معاملہ میڈیا پر اٹھایا اور ان جبری گمشدگیوں کے پیچھے آئی ایس آئی اور دیگر خفیہ اداروں کے ملوث ہونے کے ثبوت سامنے آگئے توحامد میر کو دھمکی دی گئی کہ وہ اپنی زبان بند رکھیں لیکن اس نے ایسا نہیں کیا جس کے ردعمل پر اس پر قاتلانہ حملہ ہوا۔

جبکہ اس سے پہلے بھی اسلام آباد میں حامد میر کی گاڑی کے نیچے بم رکھا گیا تھاجو پھٹنے سے پہلے ناکارہ بنادیا گیا۔

اسی طرح گذشتہ مہینوں پاکستان کے دارلحکومت اسلام آباد میں فوج کے خلاف تنقید کرنے پر دو صحافیوں ابصارعالم اور اسد علی طور کونشانہ بنایا گیا۔ سینئر صحافی ابصار عالم کو شام کے وقت اسلام آباد کے ایک پوش علاقے میں دوران چیل قدمی گولی ماری گئی جس سے وہ شدید زخمی ہوگئے لیکن ان کی جان بچ گئی۔

خیال رہے کہ ابصار عالم گذشتہ 27 برس سے صحافت کے شعبے سے منسلک ہیں۔ وہ ایک سینئرصحافی ہیں اورپاکستان الیکٹرانک میڈیاریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا)کے سابق چیئر مین رہے ہیں۔ وہ موجودہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے ایک ناقد کے طور پر جانے جاتے ہیں اور اکثر اس حوالے سے سوشل میڈیا پر تبصرے کرتے رہتے ہیں۔

صحافی اوروی لاگر اسد علی طور پر اسلام آباد میں اس کے گھر میں تین مسلح افراد نے گھس کر اسد علی طور کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا اور اسے”پاک فوج زندہ باد، آئی ایس آئی زندہ باد“ کے نعرے لگوائے۔

حملہ آوروں نے صحافی اسد علی طور کوکہا کہ ان کا تعلق آئی ایس آئی سے ہے اور اسد علی طور اپنے ویڈیوزمیں پاک فوج کے خلاف کیوں تنقید کرتا ہے؟۔حملہ آوروں نے اسد علی طور کو کہا اگر آج کے بعد انہوں نے فوج پر تنقید کی تو اس کا انجام موت ہوگا۔

واضع رہے کہ اسد علی طور ایک صحافی و وی لاگر ہیں جو پاک فوج، اس کے افسران، سیاسی قیادت سمیت تمام حکومتی و سول اسٹیبلشمنٹ کے غلط اور غیر جمہوری کاموں پر تنقید کرتا ہے۔

اسد علی طور پر حملے کیخلاف سوشل میڈیا پر فوج کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔اسلام آبادمیں اسد علی طور کی حمایت میں منعقدہ ایک مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے جیو نیوز سے منسلک سینئر صحافی حامد میر نے ریاستی اداروں کو تنبیہ کی کہ اب آئندہ کسی صحافی پر ایسے تشدد نہیں ہونا چاہیے اگرایسا ہوا تووہ جرنیلوں کی گھر کی باتیں بتانے پر مجبور جائینگی کہ کس جرنیل کی بیوی نے کیوں اسے گولی ماری ہے۔

حامد میر کی جانب سے جرنیلوں کے گھر کی باتیں بتانے پرفوج کی جانب سے اس پر انتقامی کارروائی شروع کی گئی اور اسے پاکستان کے سب سے بڑے میڈیا ہاؤس ”جنگ“ اور ”جیو“ سے نکال دیا گیا۔

اس پر مستزاد پاکستان کے بہت سے صحافی، سیاستدان،سماجی کارکن، سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ پاک فوج پر تنقید کرنے پرا س کے سنگین انتقام کا شکار ہوئے جن میں 40سے زائد تو جان سے ہاتھ دھوبیٹے اور بہت سے اب بھی انہی انتقامی کارروائی میں سفر کررہے ہیں۔جن میں احمد نوارانی،مطیع اللہ جان، اسد علی طور،ابصار عالم، حامد میر، ندیم ملک،ظفر نقوی،رضوان رضی وغیرہ وغیرہ شامل ہیں۔

اسی طرح بلوچستان میں فوج پر تنقید یا سچی رپورٹنگ کرنے والے اب تک 44صحافوں کو ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے راستے سے ہٹادیا گیا ہے۔

رواں سال پاکستان میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے ایک ایسے مجوزہ بل کی منظوری دی ہے جس کے تحت مسلح افواج اور اس کے اہلکاروں پر جانتے بوجھتے تنقید کرنے والوں کو دو سال تک قید اور پانچ لاکھ تک جرمانے کی سزاؤں کی تجویز دی گئی ہے۔

قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں حزب اختلاف کی جماعتوں پاکستان مسلم لیگ نواز اور پاکستان پیپلز پارٹی کے اراکین نے اس کی مخالفت کی اور جب مجوزہ بل پر ووٹنگ کروائی گئی تو اس کے حق اور مخالفت میں پانچ، پانچ ووٹ آئے۔ اس کے بعد چیئرمین کمیٹی خرم نواز نے اس کے حق میں ووٹ دیا اور یوں یہ مجوزہ بل کثرت رائے کی بنیاد پر منظور کر لیا گیا۔

خیال رہے کہ اس ترمیمی بل کے تحت مسلح افواج اور ان کے اہلکار جانتے بوجھتے کی جانے والی تضحیک، توہین اور بدنامی سے مبرا ہوں گے اور ایسا کرنے والے شخص کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ 500 اے کے تحت کارروائی ہو گی جس کے تحت دو سال تک قید کی سزا، پانچ لاکھ تک جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکیں گی۔

پاکستان تحریک انصاف کے رکن راجہ خرم نواز کی زیرصدارت ہونے والے قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں یہ بل پیش کیے جانے کے موقع پر حزب اختلاف کی جماعتوں پاکستان مسلم لیگ نواز اور پاکستان پیپلز پارٹی کے اراکین نے اس کی مخالفت کی اور کہا کہ ممکن ہے کہ اس قانون کی آڑ میں آزادی اظہار رائے پر قدغن لگائی جائے گی۔

قائمہ کمیٹی سے بل کی منظوری کی خبر کے بعد سوشل میڈیا پر کئی صارفین نے اس پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔

اسی طرح گذشتہ برس ستمبر میں پاکستان کی قومی اسمبلی میں ایک ترمیمی بل پیش کیا گیا ہے جو کہ ملکی اداروں بالخصوص فوج کے خلاف ہرزہ سرائی سے متعلق ہے۔

اس بل کو پاکستان پینل کوڈ 1860 اور کوڈ آف کرمنل پروسیجر 1898 میں ترمیم کرنے کے لیے کرمنل لا (ترمیمی) ایکٹ بل 2020 کا نام دیا گیا ہے۔

یہ بل پاکستان تحریک انصاف کے رُکن قومی اسمبلی امجد علی خان نے پرائیویٹ ممبر بل کے طور پر پیش کیا تھا۔

اس بل میں یہ تجویز دی گئی کہ جو کوئی بھی پاکستان کی مسلح افواج کا تمسخر اڑاتا ہے، وقار کو گزند پہنچاتا ہے یا بدنام کرتا ہے وہ ایسے جرم کا قصوروار ہو گا جس کے لیے دو سال تک قید کی سزا یا پانچ لاکھ روپے تک جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔

اس وقت پاکستان پینل کوڈ کے سیکشن 500 میں ہتک عزت کے خلاف سزا تو درج ہے مگر اس شق میں ملک کی مسلح افواج کا نام نہیں لکھا گیا ہے۔

سیکشن 500 کے متن کے مطابق ‘جب بھی کوئی، کسی دوسرے کی رسوائی، بدنامی کا باعث بنے گا تو اس کو دو سال کی قید یا جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔’

ترمیمی بل میں اضافہ کی جانے والی شق 500۔الف یعنی (500-A) ہے اور اس کو ‘مسلح افواج وغیرہ کے ارادتاً تمسخر اڑانے کی بابت سزا’ قرار دیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ گذشتہ برس صرف ستمبر کے ہی مہینے میں ایسے الزامات کے تحت بعض صحافیوں کے خلاف مقدمات درج کیے گئے ہیں۔

ان میں سینیئر صحافی اور پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کے سابق چیئرمین ابصار عالم بھی شامل ہیں جن کے خلاف پنجاب پولیس نے پاکستان فوج کے خلاف اکسانے کا مقدمہ درج کیا جبکہ ان کے خلاف آرٹیکل چھ کے تحت سنگین غداری کا مقدمہ درج کرنے کی درخواست بھی دی گئی۔

اس سے پہلے کراچی میں صحافی اور سماجی رابطوں کی ویب سائٹوں پر متحرک بلال فاروقی کے خلاف پاکستان آرمی کے خلاف بغاوت پر اکسانے اور مذہبی منافرت پھیلانے کے الزام میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

جبکہ اس کے بعد راولپنڈی کی پولیس نے سوشل میڈیا پر پاکستانی اداروں بالخصوص فوج کے خلاف ہرزہ سرائی کرنے، پوسٹس اور تبصرہ کرنے کے الزام میں صحافی اسد علی طور کے خلاف بھی مقدمہ درج کیا۔

اب پاکستان میں صورتحال یہ ہے کہ پاک فوج نے عمران خان حکومت کی توسط سے فوج کیخلاف بولنے پر ایسے بل کی منظوری دی ہے جس سے وہ کسی کوبھی کانونی طور پراپنی انتقامی کارروائی کانشانہ بنا سکتا ہے۔

پاکستان مسلم لیگ (ن)کے رکن قومی اسمبلی جاوید لطیف بھی پاک فوج کیخلاف بولنے پر سزاکاٹ رہے ہیں۔جنہوں نے پاکستان مسلم لیگ (ن)کے نائب صدر اور سابق وازیر اعظم پاکستان میاں نوازشریف کی صاحبزادی مریم نواز کو عسکری اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے ختم کرنے کی دھمکی دی گئی تو جاوید لطیف نے کہا تھاکہ اگر مریم نواز کو کچھ ہوا تو پاکستان بھی نہیں بچے گا۔

جاوید لطیف کے اس بیان سے اسے غدار قرار دیکر اس کے خلاف قانونی کاروائی شروع کی گئی اور اسے جیل بھیج دیا گیا۔

اسی طرح جمعیت علمائے اسلام کے سینئررہنما مفتی کفایت اللہ کو پاک فوج کیخلاف تنقید کرنے پر خفیہ اداروں نے پہلے انہیں جبری گمشدگی کا نشانہ بناکردو مہینے تک اپنے تارچر سیل میں رکھا اور پھراسے چھوڑدیا۔جبکہ پھر پولیس نے انہیں گھر سے گرفتار کرکے فوج کیخلاف بات کرنے کی کیس بناکرجیل میں ڈال دیاجو گذشتہ پانچ مہینوں سے جیل میں ہیں۔

واضع رہے کہ مفتی کفایت اللہ نے دسمبر سال 2019 میں ایک نیوز چینل کو انٹرویو میں پاک فوج کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ چوری اگر پکڑنی ہے تو آرمی کے جنرلز کی بھی پکڑنی ہوگی۔

اسی انٹرویو میں انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر حکومت میں ہمت ہے تو پاکستان آرمی کے شعبہ تعلقات عامہ کے سابق سربراہ جنرل عاصم سلیم کو بھی پکڑا جائے اور ان کا دایاں ہاتھ کاٹا جائے۔

اسی طرح پشتون تحفظ موومنٹ کے اراکین قومی اسمبلی محسن داوڑ اور علی وزیرپاک فوج کیخلاف تنقید کرنے پر شدید انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنے ہوئے ہیں۔

علی وزیر جس کا تعلق وزیرستان اورصوبہ خیبر پختونخواسے ہے۔ وہ پشتون تحفظ موومنٹ کے ٹکٹ پر وزیرستان سے قومی اسمبلی کی سیٹ پر کامیاب ہوکر رکن قومی اسمبلی بن گئے۔لیکن پاک فوج اور اس کے پالے ہوئے ”گُڈطالبان“کی وزیرستان اور گرادونواح میں قتل وغارت گری،انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر وہ فوج کیخلاف تنقید کرتے رہتے ہیں۔

رکن قومی اسمبلی علی وزیر نے ایک عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیرستان میں پاک فوج کی جانب سے نہتے عوام پر تشدد، گھروں کو جلانا،قتل و غارت گری، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

اس بیان کے بعد پاکستان کے آرمی چیف قمر جاوید باجوہ نے اپنی ایک ذاتی انتقام کے طور علی وزیر کوایک زمین پر قبضے کے جھوٹے ایف آئی آر میں نامزد کیا اور گرفتاری کے بعد جیل میں ڈال دیا۔

جو گذشتہ سات مہینوں سے جیل میں ہیں اورجب انہیں کسی پیشی کیلئے عدالت میں پیشی کیلئے لے جایا جاتا ہے توانہیں عوام کے سامنے ہتھکڑیا ں لگاکرروڈوں پر کھینچاجاتا ہے تاکہ لوگ اسے دیکھ کر عبرت حاصل کریں اور پاک فوج کیخلاف بولنے سے کترائیں۔

جنرل باجوہ کی ہدایت پرعلی وزیر کوتضحیک وتذلیل کانشانہ بنایا جارہا ہے۔جو مکمل طور پر ایک ذاتی عناد اور انتقام ہے۔

گذشتہ روزیکم جولائی کو جب پاکستان کی فوج اورانٹیلی جنس قیادت نے قومی سلامتی کے امور پرپاکستان کی ارکان پارلیمنٹ کو پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں ایک خفیہ بریفنگ دی تواس اجلاس میں سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ (ن)کے رہنما شاہد عبا س خاقان نے کہاکہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مجھے یہ دیکھ کر بڑا افسوس اوردکھ ہوتا ہے کہ ایک منتخب پارلیمنٹرین علی وزیر کوہتھکڑیاں لگاکر گھمایا جاتا ہے۔آپ سوچیے بطور پارلیمنٹیرین مجھے دکھ ہوتا ہے تو اس کے حلقے کے جن لوگوں نے ان کو ووٹ دیاان کو کتنا دکھ اور افسوس ہواہوگا؟ آپ یہ مت کیجیے ان کو چھوڑ دیجیے۔

اس پر آرمی چیف نے کہا کہ دیکھئے کہ بات یہ نہیں ہے، علی وزیر نے جو بات کی ہے۔ انہوں نے میری ذات پر جوتنقید کرتے مجھے اعتراج نہیں ہوتا۔ جس طرح میاں نواز شریف نے میری ذات پر تنقید کی ہے، میرا نام لیا، میرے بارے میں بہت کچھ کہا، ہم نے کوئی ایکشن نہیں لیا۔لیکن علی وزیر نے فوج کے ادارے کی بات کرکے سخت گفتگو کی۔تو ہم فوج کے ادارے پر بات کرنے پر کسی کوکسی بھی صورت میں نہیں چھوڑیں گے۔

اس پر پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کھڑے ہوگئے اور انہوں نیآرمی چیف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ برائے مہربانی علی وزیر کو چھوڑ دیجیے۔وہ جذباتی ہے، انہیں سمجھنے کی کوشش کیجیے۔ کیونکہ علی وزیر کی فیملی میں بہت لوگ قتل ہوئے ہیں۔تو جس نے اپنے بھائیوں، کزنزاوردوستوں کی لاشیں اٹھائی ہیں اس کے غصے کا عالم اور ہوگا۔ان کی ماں کو دیکھیے وہ اپنے بیٹے کا انتظار کر رہی ہے، وہ اتنا سفر کررہی ہے، آپ برائے مہربانی انہیں چھوڑ دیجیے۔

جس پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ دیکھیے ہمارے بھی فوجی اہلکار شہید ہوتے ہیں۔ان میں بھی غصہ ہوتا ہے، ہمارے ادارے نے بھی قبربانیاں دی ہیں۔تویہ کیا بات ہوئی کہ صرف علی وزیر نے قربانیاں دی ہیں۔

اس پر بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ نہیں علی وزیر ایک منتخب پارلیمنٹیرین ہیں، آپ تھوڑا درگرز سے کام لیں اورجانے دیجیے۔

جس پر آرمی چیف نے بلاول بھٹو زرداری کو پیشکش کی اگرعلی وزیر معافی مانگ لیں تو ہم ان کو چھوڑ دینگے۔کیونکہ علی وزیر نے کہا کہ میں فوجیوں کو الٹالٹکا دوں گااور گھسیٹوں گا،یہ بات ناقابل قبول ہے۔ہمارے لوگ اس علاقے میں دہشتگردی کیخلاف لڑتے ہوئے قتل ہورہے ہیں اورشہید ہورہے ہیں۔

آرمی چیف کے معافی کا مطالبہ کرنے والے بیان کے بعد علی وزیر نے جیل میں جنرل قمر جاوید باجوہ کے نام ایک کھلا خط لکھا جس میں انہوں نے معافی مانگنے سے انکارکرتے ہوئے کہا کہ پہلی بات تو یہ ہے کہ آپ کا مجھ سے معافی کا مطالبہ کرنا ہی اس تلخ حقیقت کا اعتراف ہے کہ اس ملک میں حکمرانی، جز او سزا کا اختیار کس کے پاس ہے؟ اور کون مجھے بار بار زندانوں میں ڈالتے ہیں؟

دوسرا یہ کہ، آپ کا یہ مطالبہ قطعاً غیر جمہوری، غیر آئینی اور غیر قانونی ہے۔ جمہوریت میں حاکمیت اعلیٰ جمہوراور ان کے منتخب نمائندوں کے پاس ہوتاہے۔ وہ ہی آئین کے خالق ہوتے ہیں۔ لہذا آئین، ریاستی اداروں اور پالیسیوں پرتنقیدی سوالات اٹھانا ظلم اور جبر کے خلاف احتجاج کر نا، اور ریاستی نظام اور پالیسیاں بدلنے کا آئینی حق صرف انہی کے پاس ہوتا ہے۔

علی وزیر نے اپنے خط میں لکھا کہ مجھے سات ماہ کی قید کے بعد پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس میں شرکت کے لئے عارضی رہائی دی گئی۔ اس دوران مجھے سوشل میڈ یا کے ذریعے معلوم ہوا کہ آپ نے مبینہ طور گزشتہ دنوں پارلیمنٹ کے اراکین کو”قومی سلامتی“ پر ان کیمرہ بریفنگ کے دوران کہا ہے کہ اگر میں آپ سے معافی مانگوں تو تب بھی مجھے رہائی ملے گی۔کیا یہ آئین کی کھل کھلا خلاف ورزی نہیں ہے کہ آپ ایک ایسے ادارے کے سربراہ ہیں جو کہ صرف ایک حکومتی وزارت کا ایک ذیلی ادارہ ہے، اور جن کوشہریوں کے ٹیکس اور قومی خزانے سے تنخوادی جاتی ہے۔وہ نہ صرف سیاستی و عدالتی معاملات میں مداخلت کرتے ہیں بلکہ پارلیمنٹ اور عدلیہ کوکبھی کنٹرول کرتے ہیں اور فیصلوں پر اثر انداز ہوتے ہیں؟۔

آئین اور قانون کی تشریح کا اختیار عدلیہ کے پاس ہوتا ہے مگر ریاست کے ایک ذیلی ادارے کو یہ اختیار کس نے دیا کہ وہ سزا اور جزا کے بارے میں فیصلہ کرے؟ اگر فوج نے یہ حقوق اور اختیارات سلب کئے رکھے ہیں، اور سزا اور جزا کے ”فیصلوں ” کا اختیار اپنے پاس رکھنا ہے تو یہ پارلیمان اور عدلیہ کے وجوداور جمہوریت پر بہت بڑا سوال ہے۔

رکن قومی ا سمبلی علی وزیر نے جنرل باجوہ کے نام اپنے کھلے خط میں اسے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ رہی یہ بات کہ مجرم کون ہے اور غدار کون ہے؟ تو اس بارے میں، میں عظیم انقلابی رہنما فیڈل کاسترو’ کا تاریخی قول دہرا دوں گا کہ ”تاریخ میر ی کی سچائی ثابت کرے گی۔“ اور تاریخ یہ بھی فیصلہ کرے گی کہ انسانیت کے خلاف جرائم کس نے کئے؟ اپنے حلف کی خلاف ورزی کس نے کی؟ اور معافی کس کو مانگنا چا ہئے؟

یہاں میری ذات، جیل میں صحت اور زندگی کو جان لیوا خطرات، خاندانی اورقومی صدمات اہم نہیں، بلکہ وہ سوالات اہم ہیں جو ہمارے سماج کو درپیش ہیں، اور ان پر آوازیں اٹھتی رہیں گی۔کتنی آوازوں کو دبائیں گے؟ آوازوں کو دبانے کے بجائے پارلیمان کو اس کے جوابات ڈھونڈ نے دیں۔ ان کا حل اہم ہے۔ جمہورکی حق حکمرانی، فیصلہ سازی کا حق اور آئین کی بالا دستی کے بارے میں سوچیں۔ میری توجد جہد جاری رہے گی۔

علی وزیر نے لکھا کہ ان میں سے ایک اہم سوال یہ ہے کہ پچھلے چالیس سال سے جاری سامراجی جنگ سے پورا ملک تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے، اس سے ملک کو کیسے نکالنا ہے، یاجنگ کوہی خارجہ اور داخلہ پالیسی کے اساس کے طور پر جاری رکھنا ہے؟ اس سوال کا جواب اہم ہے کیونکہ یہ پالیسی ملک میں عوامی جمہوری نظام کے قیام میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

اسی لئے آج تک ملک میں محکوم قومیں، طلبا، مزدور اور کسان، خواتین، اور زیر عتاب مذاہب کے لوگ اپنے حقوق اور امن کے لئے سڑکوں پر سراپا احتجاج ہیں۔ نہ تعلیم و علاج، نہ روزگار اور نہ رہائش کا حق، اورنہ صنعت سازی۔ جنگ اور شورش زدہ علاقوں کے غربت زدمحنت کش کے جوان گلف میں غلامی پر مجبور ہیں۔ غیر پیداواری اور جنگی اخراجات کی وجہ سے بننے والے بجٹ کے خسارے پورے کرنے کے لئے پاکستان سامرا بی قرضوں میں مزید دھنستا جا رہا ہے۔

انتہا کا قومی،طبقاتی اورصنفی جبر،پشتون اور بلوچ قوموں کی نسل کشیاں اور جبری گمشدگیاں، ”سچ او رمفاہمت کمیشن“کا قیام، ملک اور خاص طور پر پختونخوامیں قبائلی اضلاع کو جنگ بازگروہوں او رلینڈ مائنز سے صاف کرنا، جنگ زدہ علاقوں میں زندگی کو معمول پر لانا اور آئی ڈی پیز کو دوبارہ بسانا، او رمحکوم قوموں اور محنت کش عوام کو ان کے وسائل لوٹانا اہم سوالات ہیں۔ کیونکہ آج مسلسل جنگ، غیر پیدا وری اخراجات، اور وسائل پر فوجی اور سول حکمران طبقے کی قبضہ گیر یت کی وجہ سے ملک میں ”عوامی جمہوری ریاست“تو کیا،ایک بنیا دی فلاحی ریاست بھی نہیں بن سکی ہے۔

علی وزیر نے اپنے خط میں آرمی چیف قمر جاوید باجوہ کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ افغانستان سے امریکی فوجی انخلاء کے بعد بغلیں بجانے کی بجائے ہمیں درپیش گھمبیر مسائل کے حل کے بارے میں سوچیں۔ ملک میں ایک اور سول وار شروع ہونے کو ہے، جس کا حل ہمسایہ مالک کے ساتھ دوستانہ بنیادوں پر تجارتی اور سفارتی تعلقات استور کرنے میں ہے، نہ کہ پراکسی جنگوں میں۔

علی وزیر نے لکھا کہ دوغلی خارجہ پالیسی ہی ملک کو مز ید لے ڈوبے گی۔ خطے میں نئی معاشی اورسٹریٹجک صف بندی، اور امریکہ اور چین کے درمیان حالیہ رسہ کشی میں پاکستان کے پھنس جانے، نیاعالمی میدان جنگ بن جانے اور نئے سرد جنگ کے شروع ہونے سے پاکستان کو شد ید مشکلات کا سامنا ہے۔ ان سب معاملات پر جمہوری فیصلے کرنے ہونگے۔ پارلیمان سے باہر چھاؤنیوں میں پہلے سے کئے گئے فیصلوں کو طاقت کے زور پر سیاسی قوتوں اور صحافیوں کو ”بریفنگ ” کی شکل میں سنادینے کوتاریخ کبھی معاف نہیں کرے گی۔

پاک فوج اپنے ناقدین کو کیونکر انتقامی کارروائی کا نشانہ بناتی ہے؟۔اگرپاکستان واقعی ایک جمہوری ریاست ہے تو اظہار آزادی کا حق سب کو ملنا چاہیے لیکن ایسا بالکل نہیں ہے۔پاک فوج نے گذشتہ 70سالوں سے ساستدانوں، سرکاری ملازمین،سول بیوروکریسی، صحافیوں،وکلاء، عدلیہ کے حوالے سے عوام میں ایک سوچ کو پروان چڑھایاکہ یہ سب کرپٹ ہیں اور فوج ہی وہ واحد ادارہ ہے جو کرپشن سے بالکل پاک ہے۔

لیکن پاکستان میں سوشل میڈیا کے آنے کے بعد فوج کے کالے کرتوں اور کرپشن کی کہانیاں آہستہ آہستہ پھیلنے لگیں جس سے جرنیلوں کی مال بنانے کی سب کرپشن عوام کے سامنے آنے سے جہاں فوج میں بے چینی بڑھنے لگی وہاں اس کی مورال بھی گرنے لگی ہے اور عوام میں اس کے خلاف نفرت اور سوال اٹھنے لگاہے۔ ردعمل پر پاک فوج نے ادارے پر تنقید کرنے والوں کیخلاف مکمل کریک ڈاؤن کا آغاز کیا ہے تاکہ اپنی کرپشن کو چھپا سکے۔

اور اس سلسلے میں پاک فوج کی ایماپر پارلیمنٹ میں باقاعدہ قانون سازی بھی کئی گئی ہے تاکہ فوج کو صاف وشفاف قرار دیا جاسکے لیکن اس جدید دور میں سوشل میڈیا نے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کردیا ہے۔اب پاک فوج کی کسی بھی قسم کی بد عنوانی نہیں چھپ سکتی، ہر چیز تیزی کے ساتھ پھیل کرعوام تک پہنچ رہا ہے جس سے فوج کی حواس باختگی میں مزید اضافہ ہورہا ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں